Javascript must be enabled to continue!
خنثیٰ اور ٹرانسجینڈر کے مسائل: اسلامی فقہ، پاکستانی و بین الاقوامی قوانین و سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ایک تجزیاتی مطالعہ
View through CrossRef
یہ تحقیقی مقالہ پاکستان میں 2018ء کے "ٹرانسجینڈر ایکٹ" اور اس کے دینی، سماجی، قانونی اور سائنسی مضمرات کا تفصیلی مطالعہ ہے۔ اس مضمون میں ٹرانسجینڈر کی پانچ اقسام کا فقہی تجزیہ پیش کیا گیا ہے جنہیں کلاسیکی فقہ میں "خنثیٰ" اور اس کی ذیلی اقسام کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مضمون میں ان افراد کے حقوق، وراثتی مسائل، معاشرتی پہلو اور فقہی اصولوں کا بیان کیا گیا ہے، نیز پاکستان کے موجودہ قانونی ڈھانچے اور بین الاقوامی قوانین کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔
سائنسی تحقیقات کی روشنی میں intersex (خنثیٰ) اور transgender کے درمیان فرق کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی فقہ "خنثیٰ غیر مشکل" اور "خنثیٰ مشکل" کے مسائل کے حل کے لیے واضح اصول فراہم کرتی ہے، جبکہ جدید قانون سازی بعض پہلوؤں میں مذہبی و سماجی اقدار سے متصادم نظر آتی ہے۔
This research article provides a detailed study of Pakistan’s 2018 “Transgender Persons (Protection of Rights) Act” and its religious, social, legal, and scientific implications. It analyzes the five categories of transgender identities discussed in classical Islamic jurisprudence under the term khunthā (intersex) and its subtypes. The article explores issues of inheritance, rights, and social integration while comparing the Islamic legal framework with Pakistan’s legislative context and international law. In light of scientific findings, the distinction between intersex and transgender identities is clarified. The study concludes that Islamic jurisprudence offers clear principles for resolving the issues of khunthā ghayr mushkil and khunthā mushkil, whereas modern legislation sometimes conflicts with established religious and cultural norms.
Academia (Private) Limited
Title: خنثیٰ اور ٹرانسجینڈر کے مسائل: اسلامی فقہ، پاکستانی و بین الاقوامی قوانین و سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ایک تجزیاتی مطالعہ
Description:
یہ تحقیقی مقالہ پاکستان میں 2018ء کے "ٹرانسجینڈر ایکٹ" اور اس کے دینی، سماجی، قانونی اور سائنسی مضمرات کا تفصیلی مطالعہ ہے۔ اس مضمون میں ٹرانسجینڈر کی پانچ اقسام کا فقہی تجزیہ پیش کیا گیا ہے جنہیں کلاسیکی فقہ میں "خنثیٰ" اور اس کی ذیلی اقسام کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مضمون میں ان افراد کے حقوق، وراثتی مسائل، معاشرتی پہلو اور فقہی اصولوں کا بیان کیا گیا ہے، نیز پاکستان کے موجودہ قانونی ڈھانچے اور بین الاقوامی قوانین کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔
سائنسی تحقیقات کی روشنی میں intersex (خنثیٰ) اور transgender کے درمیان فرق کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی فقہ "خنثیٰ غیر مشکل" اور "خنثیٰ مشکل" کے مسائل کے حل کے لیے واضح اصول فراہم کرتی ہے، جبکہ جدید قانون سازی بعض پہلوؤں میں مذہبی و سماجی اقدار سے متصادم نظر آتی ہے۔
This research article provides a detailed study of Pakistan’s 2018 “Transgender Persons (Protection of Rights) Act” and its religious, social, legal, and scientific implications.
It analyzes the five categories of transgender identities discussed in classical Islamic jurisprudence under the term khunthā (intersex) and its subtypes.
The article explores issues of inheritance, rights, and social integration while comparing the Islamic legal framework with Pakistan’s legislative context and international law.
In light of scientific findings, the distinction between intersex and transgender identities is clarified.
The study concludes that Islamic jurisprudence offers clear principles for resolving the issues of khunthā ghayr mushkil and khunthā mushkil, whereas modern legislation sometimes conflicts with established religious and cultural norms.
Related Results
سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں تعلیمی مسائل کا حل
سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں تعلیمی مسائل کا حل
یہ تحقیقی مقالہ سیرت النبی ﷺ کے تعلیمی منہج کو بنیاد بنا کر عصر حاضر کے تعلیمی مسائل کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ مقالے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں تعلیم کے مقاصد، اساتذہ کے کردار...
مریضوں اور عوام کی شمولیت اور مصروفیت ٹول کٹ
مریضوں اور عوام کی شمولیت اور مصروفیت ٹول کٹ
یہ ٹول کٹ صحت کی تحقیقاتی ٹیموں اور منصوبوں کے اندر مریضوں اور عوام کی شمولیت اور انخلا (PPIE) کے اقدامات کے قیام میں معاونت کے لیے ایک وسیلہ کے طور پر تیار کی گئی ہے۔ اگرچہ اس کا ...
معاصرسماجی مسائل کے حل میں مصادر اسلامی کاکردار،ایک تجزیاتی مطالعہ
معاصرسماجی مسائل کے حل میں مصادر اسلامی کاکردار،ایک تجزیاتی مطالعہ
ہر معاشرہ اپنے خوبیوں کے ساتھ مختلف النوع سماجی مسائل کا سامنا کرتا ہے۔ یہ مسائل کبھی معاشی نوعیت کے ہوتے ہیں، کبھی اخلاقی، اور کبھی خاندانی و تمدنی بنیادوں کو متزلزل کر دیتے ہیں ا...
أثر برنامج تدريبي في تنمية بعض مهارات التفكير الاجتماعي لدى طلبة معهد الفنون الجميلة
أثر برنامج تدريبي في تنمية بعض مهارات التفكير الاجتماعي لدى طلبة معهد الفنون الجميلة
هدفت الدراسة الحالیة الی التحقق من الفرضیات الاتیة:
1- لا توجد فروق دالة احصائیا عند مستوی (0.05) بین متوسطی درجات افراد المجموعتین التجریبیة والضابطة علی مقیاس التفکیر الاج...
The Social Role of Donation in the Structure of Islamic Civilization
The Social Role of Donation in the Structure of Islamic Civilization
:چکیده
نقش اجتماعی وقف در ساختار تمدن اسلامی از موضوعات بسیار مهم در ایجاد تمدن انسانی و اسلامی بوده که همواره برای خیر و صلاح جامعه اسلامی نقش ارزنده ی را در تمدن اسلامی داشته ...
نظریه فقهی؛ حقیقت، پیدایش، اهمیت و نقشِ آن در تدوین قوانین
نظریه فقهی؛ حقیقت، پیدایش، اهمیت و نقشِ آن در تدوین قوانین
اصطلاح «نظریههای فقهی» از جمله اصطلاحات جدید بهشمار میرود و در فقه اسلامی گذشته رایج نبوده است؛ بلکه شیوهای نوین از تألیف فقهی است که توسط فقهای معاصر، که میان تحقیق و مطالعهٔ ...
پایه و پایگاه عُرف در شریعت اسلام
پایه و پایگاه عُرف در شریعت اسلام
آنچه در بین مردم بهگونۀ گسترده و از گذشته متداول باشد، بدان عُرف گفته میشود. عُرف در شریعت اسلام پایهیی ستبر و پایگاهی سترگ دارد. کثیری از احکام به عرف زمانه و زمینه واگذارده ...
امام جلال الدین سیوطی کی"الخصائص الکبریٰ" کااُسلوب ومنہج (Pattern & Methodology of Al Khaṣāiṣ-ul-Kubra by Imām Jalāl ud Dīn Suyūṭī)
امام جلال الدین سیوطی کی"الخصائص الکبریٰ" کااُسلوب ومنہج (Pattern & Methodology of Al Khaṣāiṣ-ul-Kubra by Imām Jalāl ud Dīn Suyūṭī)
<b>Urdu Abstract:</b> متأخرین علمائے کرام میں فنون اسلامیہ کی متفرق جہات پر سریع القلم کا سہرا چند ہی شخصیات کے ماتھے سجا ہے ،جن میں بلاشبہ امام جلال الدین سیوطی،متوفی ...

